ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تیسرے محاذ کے لیے ہم خیال جماعتوں سے بات چیت جلد :چندرشیکھر راؤ

تیسرے محاذ کے لیے ہم خیال جماعتوں سے بات چیت جلد :چندرشیکھر راؤ

Mon, 05 Mar 2018 10:51:08    S.O. News Service

حیدرآباد4مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے چندرشیکھر راو جنہوں نے گزشتہ روز غیر بی جے پی اور غیر کانگریس تیسرے متبادل کے لئے کام کرنے کا اعلان کیا تھا ، آج کہا کہ ملک سے دو قومی جماعتوں کے نظریہ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ملک کے عوام بھی یہی چاہتے ہیں۔ وزیراعلی نے اپنی سرکاری قیامگاہ پرگتی بھون میں مختلف اضلاع سے آئے ہوئے ٹی آرایس کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے دعوی کیاکہ ملک کی صورتحال کو دیکھنے پر ان کو حیرت ہوتی ہے۔انہوں نے ملک کے لئے ایک حقیقی وفاقی محاذ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ تیسرے متبادل کے لئے رول اداکرنے ان کے گزشتہ روز دیئے گئے بیان پر مغربی بنگال کی وزیراعلی ممتابنرجی اور جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلی شیبو سورین نے ان کو فون کرتے ہوئے مبارکباد دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے اختیارات ریاستوں کو منتقل کرنے کی ضرورت ہے اور جب تک مرکز کے اختیارات ریاستوں کو منتقل نہیں کئے جاتے تب تک ملک کے عوام کی ترقی اور عوام کی بہبود ناممکن ہے۔چندرشیکھر راو نے کہاکہ اس ملک کی 135کروڑ عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔عوام نے گذشتہ 71برسوں سے کانگریس اور بی جے پی کی حکومتوں کو آزمالیا ہے۔مرکز میں تیسرے حقیقی وفاقی محاذ کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی وفاقی حکومت تیسرے محاذ سے ہی ممکن ہے اور تیسرے محاذ کا قیام تلنگانہ سے شروع کرنے کا انہو ں نے فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد تیسرے محاذ کے قیام کے سلسلہ میں مختلف ہم خیال جماعتوں سے بات چیت شروع کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ تیسرے محاذ کے قیام کے سلسلہ میں ان کے اعلان کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ان کی اس مساعی کو تائید مل رہی ہے۔وزیراعلی نے کہا ہے کہ پڑوسی ملک چین 24سال کے اندر ترقی کرسکتا ہے تو ایسی صورت میں ہم اس کی کیو ں تقلید نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اور عوام کی بہبود کے لئے ضرورت پڑنے پر دستورکو بھی ترمیم کیا جاسکتا ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ حکومتیں اور دستور ملک کی ترقی اور عوام کی بہبود کے لئے ہی ہوتی ہیں۔ جب ان سے ترقی اور بہبود کا کام نہیں ہوپاتا ہے تو ایسی صورت میں اسے تبدیل کیا جانا چا ہئے۔چندرشیکھر راونے کہاکہ تیسرے محاذ کے قیام کے اعلان کے بعد انہیں ڈرانے کی کوشش کی جارہی ہے اور جیل روانہ کرنے جیسی باتیں کی جارہی ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ اس طرح کی دھمکیوں سے وہ ڈرنے والے نہیں ہیں کیوں کہ وہ صدفیصد دیانتد ار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر غیر کانگریس اور غیر بی جے پی حکومت کے قیام سے ہی ملک کی ترقی ممکن ہے۔ ایسی حکومت عوام کے مفاد کے لئے بھی بہتر ثابت ہوگی۔غربت کے خاتمہ کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہندوستا ن کے موجودہ دستور میں تمام اختیارات مرکز کے ہاتھ میں ہیں۔ مرکز کی اجازت کے بغیر ریاستیں کچھ بھی نہیں کرسکتیں۔ موجودہ سیاسی نظام میں تبدیلی لانے کا وقت آگیا ہے ۔انہو ں نے کہاکہ مرکز کے پاس ایسے تمام شعبوں کے اختیارات ہیں جس کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہو ں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ صحت کا شعبہ ہو یا تعلیم یا زراعت اربن ڈیولپمنٹ رورل ڈیولپمنٹ جیسے کئی شعبے مرکز کے دائرہ اختیار میں ہیں جبکہ یہ تمام شعبے ریاستوں کے حولے کئے جانے چاہئیں۔ تب ہی حقیقی ترقی اور عوام کی بہبود ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی دیہی علاقہ میں سڑک کی تعمیر ہو یا شہر میں موریوں کی تعمیر ہر معاملہ میں مرکز کا عمل دخل ہوتا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ پرائم منسٹر گرام سڑک یوجنا اسکیم کے تحت دیہی علاقوں میں سڑک کی تعمیر عمل میں لائی جاتی ہے جب کہ وزیراعظم کو دیہی علاقوں کے سڑکوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ یہ کام ریاستوں کے سپرد کرنا چاہئے ۔مرکزی حکومت کے دائرہ اختیار میں آرمی نیشنل ہائی ویز جیسے شعبے ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی بہتر حکمرانی میں یکسر ناکام ثابت ہوگئے ہیں۔ عوا م کی بہبودکے لیے جو کام کرناچاہیے وہ کام نہیں کیے جارہے ہیں۔تیسرے محاذ کے ذریعہ مرکز میں ایک وفاقی حکومت قائم کرتے ہوئے ریاستوں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات منتقل کرنے کے وہ حق میں ہیں۔ ان کے اس دیرینہ خواب کو پورا کرنے کی وہ کوشش کریں گے۔اس کے لیے تلنگانہ عوام کاتعاون ضروری ہے ۔
 


Share: